واشنگٹن: امریکا نے اپنے اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی توانائی کی فراہمی کو معمول پر لانے کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننا چاہیے، تاہم عالمی توانائی کی فراہمی بحال رکھنے کے لیے اتحادیوں کو بھی عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے میں برطانیہ کو زیادہ تیزی سے اقدامات کرنے چاہیے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مجوزہ دورہ چین منسوخ نہیں ہوا، البتہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث اس میں کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔
ایرانی تیل بردار جہاز
امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے عالمی تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ایرانی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بتایا کہ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی کاروباری نشریاتی ادارے سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی جہاز پہلے ہی آبی گزرگاہ سے باہر نکل رہے ہیں اور انہیں دنیا کے مختلف ممالک کو تیل فراہم کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مزید جہاز اس راستے سے گزر رہے ہیں جن میں بھارت اور چین کے بحری جہاز بھی شامل ہیں، اس لیے امکان ہے کہ جلد ہی جہازوں کی آمد و رفت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ واشنگٹن کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنا ہے، جس میں اس کی بحریہ اور بیرونی علاقوں میں طاقت کے استعمال کی صلاحیت بھی شامل ہے۔
برطانیہ کا مؤقف
دوسری جانب برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے 53 ملین پاؤنڈ کے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگی حالات کے باعث تیل اور گیس کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دینا چاہتا۔
لندن میں وزیر اعظم ہاؤس ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا آسان کام نہیں، تاہم برطانیہ اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر سمندری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے ایک قابلِ عمل منصوبے پر کام کر رہا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم کے کسی باضابطہ مشن کا حصہ نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کے فوری حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کی ضرورت پیش آئے گی۔