آسان ٹاسک نہیں لیکن آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہے ہیں، کیئر اسٹارمر کا اعلان

لندن (16 مارچ 2026): برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہونے والے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے 53 ملین پاؤنڈ کے امدادی پیکج کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ مزید بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دینا چاہتا۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ تقریباً تین ہفتوں کے بعد برطانیہ میں تین ماہ کے لیے تیل کی قیمتیں عارضی طور پر مقرر کر دی جائیں گی تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔

دارالحکومت لندن میں واقع وزیر اعظم ہاؤس ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنا آسان کام نہیں ہے، تاہم برطانیہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر سمندری آمد و رفت کی بحالی کے لیے قابلِ عمل منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے تحت کسی باضابطہ مشن کا حصہ نہیں ہوگا بلکہ خطے میں صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی ترسیل پر بڑھتے اخراجات کو کم کرنے کا سب سے مؤثر حل جنگ کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق تیل کمپنیوں کو موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھا کر غیر معمولی منافع کمانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس جنگی صورتحال کو روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کے لیے کسی فائدہ مند موقع میں تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہونے کے فیصلے پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے نزدیک برطانیہ کے قومی مفادات سب سے زیادہ اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہیں گے اور کسی بھی دباؤ کے باوجود برطانوی عوام کے مفادات کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

Leave a Comment